سورہ نمبر 1
سورہ فاتحہ
سورہ فاتحہ (1) مکہ (2) مین نازل ہوا۔ اور اس کی سات
آیتیں اور ایک رکوع ہے۔
بِسْمِ
اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ﴿1:1﴾
خدا کے نام
سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
اَلْحَمْدُ
ِللهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ ﴿1:2﴾
سب تعریف خدا ہی کے لئے
(سزاوار) ہے جو سارے جہان کا پالنے والا
َالرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ ﴿1:3﴾
بڑا مہربان
رحم والا
مَالِكِ
يَوْمِ الدِّيْنِ ﴿1:4﴾
روز (3) جزا کا حاکم ہے
إِيَّاكَ
نَعْبُدُ وإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ﴿1:5﴾
خدایا ہم
تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں
اِهْدِنَا
الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ ﴿1:6﴾
تو ہم کو
سیدھی راہ پر ثابت (4) قدم رکھ۔
صِرَاطَ
الَّذِيْنَ أَنعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ
الضَّالِّيْنَ ﴿1:7﴾
ان کی راہ جنہیں تو نے (اپنی) نعمت عطا کی ہے نہ ان کی راہ
جن پر تیرا غضب ڈھایا گیا ہے اور نہ گمراہوں کی۔
1۔ اس سورہ
میں خدا وند عالم نے چند امور کی تعلیم فرمائی ہے۔ (1) تمام اقسام حمد و شکر کا
اسی کو مستحق سمجھنا کیونکہ کل نعمتیں بے واسطہ یا بواسطہ اسی کی بارگاہ سے عطا
ہوتی ہیں۔ (2) دنیا و آخرت میں اسی کو سچا مالک اور صاحب اختیار جاننا۔ (3) تواضع
و فروتنی جو اعلی فرد علم اخلاق کی ہے، اختیار کرنا (4) ریا سے جو بہت ذلیل امر ہے
بچنا (5) ہر کام میں اسی سے مدد چاہنا اور اسی پر توکل رکھنا (6) اچھے کو اچھا اور
برے کو برا سمجھنا جس سے حسن و قبح کا عقلی ہونا ثابت ہوتا ہے۔ (7) اچھے لوگوں کی
دوستی و پیروی کرنا اور بروں سے پرہیز و بیزاری کا اظہار کرنا وغیرہ ۔
2۔ بعض نے
اس سورہ کو مدنی کہا ہے اور بعض روایات کے موافق یہ دونوں قول صحیح معلوم ہوتے ہیں
کیونکہ یہ سورہ مکرر نازل ہوا ہے پس ہو سکتا ہے اس کا نزول ایک مرتبہ مکہ میں ہوا
ہو اور ایک مرتبہ مدینہ میں اور اسی وجہ سے اس کو سبع مثانی کہتے ہیں۔
3۔ روز
قیامت کی حکومت کی تخصیص اس وجہ سے کی ہے کہ دنیا میں تو بظاہر بہتیرے اور بھی
بادشاہ ہیں مگر قیامت میں اس کے سوا کسی کو بھی ذرہ برابر حکومت نہ ہوگی۔
4۔ ہدایت
کے معنی اگرچہ مشہور دو ہی ہیں (1) راہ دکھانا (2) منزل مقصود تک پہنچانا۔ اور
مترجمیں نے عام طور سے اس مقام پر معنی اول کو اختیار کیا ہے مگر حق یہ ہے کہ یہاں
پر ان دونوں معنی میں سے کوئی معنی صحیح نہیں ہے کیونکہ اگر معنی اول اختیار کریں
اور یوں کہیں کہ خداوندا ہمیں سیدھی راہ دکھا تو معلوم ہوگا کہ اس کا پڑھنے والا
ابھی تک راہ راست سے کوسوں دور ہے، پہنچنا کیسا ابھی دیکھا تک نہیں اور اگر دوسرے
معنی کو اختیار کریں اور یوں کہیں کہ خدایا ہمیں سیدھی راہ تک پہنچا تو بھی وہی
خرابی ہے۔ اس کے علاوہ راہ راست سے مراد یقینا ایمان و اسلام ہے۔ پس جب پڑھنے والا
مومن ہے تو پھر بعد حصول ایمان، ایمان طلب کرنا تحصیل حاصل ہوگا اور یہ محال ہے۔
اس لئے میں نے یہ دونوں معنی ترک کر کے یہ معنی اختیار کئے ہیں۔ دیکھو تفاسیر